پاناما کیس: ’اسحٰق ڈار اپنے بیان حلفی کے انکاری ہیں‘

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل مخالفین کی جانب سے ثبوت قرار دیئے جانے والے اعترافی بیان کی تردید کرتے ہیں.

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے سامنے اسحٰق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔

واضح ریے کہ شاہد حامد وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر اور اسحٰق ڈار کے مشترکہ وکیل ہیں۔

شاید حامد نے عدالت کو بتایا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ان کے مؤکل اسحٰق ڈار نے 25 اپریل 2000 کو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دیا اور 14.866 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا، یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ سکندر مسعود قاضی اور طلعت مسعود قاضی کے نام سے وزیراعظم کے بھائی کے لیے اکاؤنٹ کھلوائے گئے۔

عدالت نے شاہد حامد سے استفسار کیا کہ کیا اسحٰق ڈار اپنے بیان حلفی کے انکاری ہیں؟

جس پر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار اپنے بیان کی مکمل تردید کرتے ہیں، ان کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد پہلے انہیں گھر پر نظر بند رکھا گیا اور تعاون پر حکومت میں شمولیت کی پیش کش کی گئی جبکہ ایک پہلے سے لکھے گئے بیان پر زبردستی دستخط بھی کرائے گئے۔

اسحٰق ڈار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ اس بیان کے بعد اسحٰق ڈار کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا جبکہ 2001 تک انہیں فوج کی تحویل میں رکھا گیا۔

شاہد حامد کے مطابق ان کے مؤکل نے رہائی کے بعد صحافی رؤف کلاسرا کو تفصیلی انٹرویو میں اپنے بیان کی تردید کردی تھی۔

جسٹس اعجاز افضل نے شاہد حامد سے سوال کیا اگر بیان ریکارڈ کرنے والا مجسٹریٹ اس بیان کی تصدیق نہیں کرتا تو اس کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں، جبکہ اسحٰق ڈار کا اعتترافی بیان عدالت عظمیٰ پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ 15 اکتوبر 1999 کو اسحٰق ڈار کو حراست میں لیا گیا تھا۔

جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ عدالت رٹ پٹیشن میں ایسا فیصلہ کیسے دے سکتی ہے؟

شاہد حامد نے اسحٰق ڈار کے بیان کو صرف کاغذ کا ٹکڑا قرار دیا جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا نہیں، شواہد کا حصہ ہے جس پر کبھی کارروائی نہیں ہوئی۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنس، قانون کے تحت تحقیقات نہ ہونے پر خارج ہوا جبکہ ہائی کورٹ نے اس کیس کو تکنیکی بنیادوں پر ختم کیا تھا۔

اسحٰق ڈار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب ریفرنس میں بھی وہی الزامات لگائے گئے تھے جو ایف آئی اے نے اپنے مقدمہ میں لگائے، تاہم 1997 میں عدالت ان الزامات پر ملزمان کو بری کر چکی ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار کے خلاف کیس میں دو ججز نے انٹرا کورٹ اپیل سنی اور عموماً پانچ جج اس اپیل کی سماعت کرتے ہیں.

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ 1992 کے تحفظ کے قانون کے تحت ایک الزام میں بری ہونے پر دوبارہ کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس آصف کھوسہ نے سوال کیا کہ جب تحفظ کا قانون بنا تو نواز شریف وزیراعظم اور اسحٰق ڈار وزیر خزانہ تھے؟

شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اس دور میں اسحٰق ڈار وزیر خزانہ نہیں تھے اور نہ ہی رکن قومی اسمبلی تھے.

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اسحٰق ڈار منی لانڈرنگ کیس میں چیئرمین نیب کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنی چاہئے تھی اور اگر چیئرمین نیب اپیل پر سپریم کورٹ آتے تو ہم دوبارہ تفتیش کرنے کا حکم دے دیتے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ شریف فیملی کے خلاف 1994 کی ایف آئی آر اور 2000 کی ایف آئی آر میں کوئی تعلق نہیں اور اسحٰق ڈار کے اعترافی بیان کا شریف فیملی کے مالی جرائم سے بھی کوئی تعلق نہیں۔

جسٹس شیخ عظمت نے شاہد حامد سے سوال کیا کہ کیا اس قانون کے مطابق بیرون ملک اکاؤنٹس کو بهی تحفظ حاصل تھا؟

جس پر شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ یہ تحفظ صرف ملک کے اندر اکاؤنٹس کو حاصل تھا۔

جس پر شیخ عظمت کا کہنا تھا کہ ریفارمز سے پاکستان میں فارن کرنسی اکاونٹس کو تحفظ دیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے شاہد حامد کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ بیان حلفی کیس میں نیب نے اپیل نہیں کی۔

جسٹس اعجاز افضل نے اسحٰق ڈار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحٰق ڈار کو بیان سے قبل وعدہ معاف گواہ بنایا گیا تھا یا بعد میں؟

شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اسحٰق ڈار کو اعترافی بیان دینے سے قبل وعدہ معاف گواہ بنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حدیبیہ پیپر ملز کا ابتدائی ریفرنس 27 مارچ 2000 کو بنایا گیا اور حتمی ریفرنس 16 نومبر 2000 کو بنایا گیا، جبکہ 3 دسمبر 2012 کو اس ریفرنس کو ہائی کورٹ کے دو ججز نے ختم کیا اور دوبارہ تفتیش پر اختلاف کیا۔

شاہد حامد کا کہنا تھا کہ ریفری جج نے 11 مارچ 2014 کو دوبارہ تفتیش کے اختلافی فیصلے میں تفتیش نہ کرانے کا فیصلہ دیا تھا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا اسحٰق ڈار کو معافی دی گئی تھی؟ کیونکہ اگر انہیں معافی نہیں دی گئی تھی تو یہ ایک ملزم کا بیان ہےاور وعدہ معاف گواہ کو معافی فراہم کرنے کے بعد اسکا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملے میں ملزم کو معافی کی پیشکش کی جاتی ہے اور معافی قبول کرنے کے بعد ایسا بیان دیا جاسکتا ہے۔

اسحٰق ڈار کے اعترافی بیان کا ریکارڈ طلب

عدالت نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس میں اسحٰق ڈار کے اعترافی بیان سے متعلق ریکارڈ طلب کرلیا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل نیب یہ بتائیں کہ نیب کے سیکشن 26 ای کے تحت دو طرح کی معافی ہوتی ہے اور یہ معافی یا تو مشروط ہوتی ہے یا غیر مشروط۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے استفسار کیا کہ وہ عدالت کو اس بات سے آگاہ کریں کہ اسحٰق ڈار کا بیان معافی دینے کے بعد ریکارڈ کیا گیا یا پہلے؟

شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ اعترافی بیان کے باوجود ان کے مؤکل کو اکتوبر 1999 سے 2000 تک سترہ ماہ زیر حراست رکھا گیا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جلاوطنی کے دوران ہونے والی تفتیش میں شریف خاندان کو کبھی طلب نہیں کیا گیا۔

شاہد حامد کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجسٹریٹ کو اس بات کا اختیار نہیں تھا کہ وہ اسحٰق ڈار کا اعترافی بیان ریکارڈ کرتا، انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ نیب کی جانب سے اس بات پر کافی غور کیا گیا کہ منی لانڈرنگ پر اپیل دائر کی جائے یا نہیں۔

ججز کے استفسار پر شاہد حامد کا بتانا تھا کہ اسحٰق ڈار کو پہلے معافی مل گئی تھی جبکہ اعترافی بیان بعد میں ریکارڈ کیا گیا، نومبر2007 میں شریف خاندان جلاوطنی کے بعد وطن واپس آیا تھا لیکن ریفرنس دوبارہ نہیں کھلا۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ معافی ملنے کے بعد اسحٰق ڈار ملزم نہیں رہے تھے، لہذا ان کا اعترافی بیان بطور ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جس کے بعد کیس کی آئندہ سماعت کو پیر(30 جنوری) کی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردیا۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کی معاونت کریں گے

دوران سماعت عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو عدالتی معاونت کے لیے روسٹرم پر بھی بلایا اور ہدایت دی کہ پیر کے روز ہونے والی کیس کی اگلی سماعت میں وہ اسحٰق ڈار کیس سے متعلق عدالت کی معاونت کریں۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو حکم دیا کہ وہ یہ بھی بتائیں کہ اپیل کیوں فائل نہیں کی گئی؟ اور کیا اس چیئرمین نیب نے اپیل فائل نہیں کی جسے حکومت اور اپوزیشن نے مل کر مقرر کیا تھا؟

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اوگرا کرپشن کیس میں توقیر صادق کے خلاف کسی نے اپیل نہیں کی جس پر سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تھا۔

کیس کی کارروائی پر تبصرہ کرنے والے افراد کو جواب دیتے ہوئے جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کیس کو آہستہ سنا جارہا ہے لیکن ہم اس وقت تک کیس کی سماعت کریں گے جب تک مطمئن نہیں ہوجاتے اور انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کی امیدوں کی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے اور آئینی عدالت انصاف کی فراہمی تک یہ کیس سنتی رہے گی۔

جائیداد کی تفصیل پیش کرنے کیلئے وقت طلب

یاد رہے کہ 25 جنوری کو ہونے والی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے وزیراعظم کی جائیداد کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں، سماعت کے آغاز میں ہی وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت سے جائیداد اور تحائف کی تقسیم سے متعلق تفصیلات جمع کرنے کے لیے پیر (30 جنوری) تک کا وقت طلب کرلیا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے مخدوم علی خان کی جانب سے وقت طلب کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز پر رپورٹس نشر ہوئی تھیں کہ آپ لوگوں نے تمام تفصیلات پیش کردی ہیں، اس لے آپ کو ہدایت دی گئی تھی کہ جو تفصیلات ہمارے پاس موجود نہیں وہ جمع کرادیں۔

جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ میرے مؤکل کا کہنا ہے کہ تفصیلات جمع کرادیں گے لیکن اس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔

جس پر عدالت نے وزیراعظم کے وکیل کو جائیداد کی تفصیلات جمع کرانے کے لیے پیر تک کی مہلت دے دی۔

گذشتہ سماعت

یاد رہے کہ گذشتہ روز ہونے والی سماعت میں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز نے اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا تھا، جس میں قطری شہزادے کا ایک اور خط بھی شامل تھا.

علاوہ ازیں گذشتہ روز وزیراعظم کی نااہلی کے حوالے سے جماعت اسلامی کی درخواست پر نواز شریف نے بھی اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروایا تھا.

جواب میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں خطاب کے دوران کوئی غلط بیانی نہیں کی اور نہ ہی بطور رکن اسمبلی اور وزیراعظم انھوں نے حلف کی خلاف ورزی کی۔

یاد رہے کہ 4 جنوری سے پاناما کیس پر درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں قائم نیا 5 رکنی لارجر بینچ کررہا ہے جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)،جماعت اسلامی پاکستان (جے آئی پی)، عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل)، جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: