ہم مردم شماری کے مسلمان ہیں۔وہ تہذیب جو اسلامی تھی ہم سے کھو چکی۔مولانا امیر محمد اکرم اعوان

اسلام آباد (توقیر خان سے)آج لوگوں نے دین کو صرف ثواب کے لیے رکھا ہوا ہے ۔حالانکہ اسلام کی اپنی ایک تہذیب ہے معاشرہ میںجو کسی کا عقیدہ ہوتا ہے اس کے تحت اپنا رہن سہن کا طریقہ بناتا ہے ۔جسے معاشرت کہتے ہیں۔کیا آج ہمارے معاشرے سے ہمارے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا عقیدہ ہمارا ایمان کیا ہے ؟
ہم مردم شماری کے مسلمان ہیں۔وہ تہذیب جو اسلامی تھی ہم سے کھو چکی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نورِ ایمان کا اظہار کردار کے ایک ایک حصے سے ہوتا ہے ۔معاشرت ایمان کی مظہر ہوتی ہے ۔کفر اور اسلام کی معاشرت مشترک نہیں ہو سکتی ۔آج ہم زندہ کی زندگی چھین کر دولت جمع کر رہے ہیں ۔جو معاشرہ اتباع کفار کا اختیار کرتا ہے وہ اسلام کا دعوی کیسے کر سکتا ہے ؟اسلام تو
محمد الرسول اللہ ﷺ کی اتباع کا نام ہے ۔دنیا میں اللہ کی رضا کے لیے زندہ رہو دنیا حاصل کرنے کے لیے نہیں۔دنیاوی ضروریات کو مقصد حیات نہیں بنانا چاہیے ۔بلکہ صرف زندہ رہنے کے لیے جائز طریقے سے حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہان میں جہاں بھی کوئی بھلائی ہے حضور اکرم ﷺ کی عطا ہے ۔نتائج دعوی پر نہیں کردار پر مرتب ہوتے ہیں۔اسلامی ریاست کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ریاست کے ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائے۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعافرمائی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: