اوپن یونیورسٹی میں ” تعلیم کے ذریعہ سماجی اصلاح “پردو روزہ عالمی کانفرنس شروع

اسلام آباد (سیدتوقیرزیدی) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک عمل سے ” تعلیم کے ذریعہ سماجی اصلاح ” کے زیر عنوان دو روزہ عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں مقررین نے عوام کی سماجی و اقتصادی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے “جامعات اورمعاشرے “کے روابط مستحکم کرنے پر زور دیاگیا۔کانفرنس کا مرکزی خیال” سماجی تبدیلی کے لئے نظام تعلیم پرنظر ثانی” تھا جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین تعلیم کی بڑی تعداد کے علاوہ پاکستان کی 25جامعات سے ایم فل اور پی ایچ ڈی سطح کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ا مریکہ کینیڈا اور آسٹریلیا کے معروف ماہرین تعلیم 300۔کلیدی خطبات پیش کریں گے۔افتتاحی اجلاس سے اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی ٗ ورچوئل یونیورسٹی کے ریکٹر ٗ ڈاکٹر نوید اے ملک ٗ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ڈین ٗ پروفیسر گلن اے جونز (Prof. Glen A Jones)اور کانفرنس کے رابطہ کار ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ٗ ڈاکٹر ناصر محمود نے عوام کی سماجی و معاشی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے “جامعات اور معاشرے ” کے درمیان روابط پیدا کرنے اور انہیں مستحکم کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد محققین اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے کا آغازکرنا تھا۔اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس “علوم تلاشنے اور پھیلانے”کی جامعہ میں جاری سرگرمیوں کا حصہ تھی۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ملک میں ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے گذشتہ دو سال کے مختصر عرصے میں 9۔ریسرچ جرنلز شائع کئے گئے اور 14قومی و بین الاقوامی کانفرنسسزمنعقد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کو معاشرتی مسائل سے منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سامراجی فورسسزنے لوگوں کے اذہان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے تعلیم کا استعمال کیا۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد کسی بھی معاشرے کے مجموعی اذہان کی تربیت کرنا اور انہیں عہد حاضر کے تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے قابل بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے تعلیمی ادارے بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو معاشرے کی سماجی اصلاح کے لئے موجودہ نظام تعلیم کو مزید بہتر اور مفید بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو لوگوں کی سماجی ومعاشی مسائل کے حل کا بہتر اوزار ہونا چاہئیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس معاشرے میں تبدیلی لانے میں مثبت کردار ادا کر ے گی۔پروفیسر گلن اے جونز (Prof. Glen A Jones)نے اکیڈمیہ۔ کمیونٹی ریلشن کے حوالے سے اپنے خیالات اور تجربے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اوپن یونیورسٹی کے ریسرچ کلچر کے فروغ کے لئے حالیہ اقدامات سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کے وژن اور اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے معاشرے کی فلاح و بہبود میں اعلیٰ تعلیم کے کردار پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمیہ کو چاہئیے کہ وہ معاشرے کے بہتر مستقبل کے لئے انہیں تعلیمی سرگرمیوں میں شامل کریں اور اس جانب تعلیمی اداروں کو طریقے اور ذرائع تلاش کرنے چاہئیے۔ ورچول یونیورسٹی کے ریکٹر ٗ ڈاکٹر نوید اے ملک نے مثالی سوسائٹی کے قیام کے لئے اکیڈمیہ اور معاشرے کے تعلقات کو مستحکم کرنے کی تجویز کو سپورٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ جامعات کو معاشرے کی ترقی کی سرگرمیوں کا حصہ بننا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ ورچول یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے اپنے فاصلاتی نظام تعلیم اور ملک گیر نیٹ ورک کے ذریعہ عوام کے ساتھ وسیع تر رسائی قائم کی ہے اور یہ دونوں ادارے معاشرے کی خدمات میں مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ناصر محمود نے کانفرنس کے مقصد کے حصول میں گہری دلچسپی ظاہر کرنے پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: