وزیراعظم کاعمران خان کے الزامات کےخلاف حکمت عملی پرغور

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے پاناما کیس سے دستبرداری کی صورت میں 10 ارب روپے کی پیش کش کے حوالے سے نئے الزامات سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نواز شریف نے حکمت عملی ترتیب دینے کا آغاز کردیا۔

نواز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کے دوران اپنے ساتھیوں اور قانونی ٹیم سے نئے الزامات کے حوالے سے مشورہ کیا اور عمران خان کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر غور کیا گیا۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے قانونی مشیر بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ ‘اجلاس میں عمران خان کو عدالت میں لے جانے سمیت کئی پہلووں پر غور کیا گیا تاکہ عوام کو اس کی حقیقت سے آگاہ کیا جا سکے’۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو تازہ الزامات سے آگاہ کیا اور قانونی ٹیم نے مخلتف پہلووں کا جائزہ لیا۔

گوکہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے اس اجلاس کے حوالے سے باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا تاہم وزیراطلاعات مریم اورنگ زیب نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو سے لاعلم ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کے نئے الزامات سے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں عمران خان کی جانب سے ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔

اجلاس کے شرکاء کی رائے تھی کہ عمران خان کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت جھوٹ بولنے کی پاداش میں نااہل ہوسکتے ہیں۔

چند شرکاء کا خیال تھا کہ عمران خان کی جانب سے نئے الزامات کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے۔

انھوں نے زور دیا کہ شریف برادران کی جانب سےرقم کی پیش کش کرنے والے کا نام بتادیا جائے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے عمران خان پر زور دیا کہ وہ اس آدمی کا نام بتادیں جس نے شریف برادران کی جانب سے رقم کی پیش کش کی تھی۔

انھوں نے خوف کا اظہار کیا کہ اگر پی ٹی آئی کے سربراہ ایسا کرنے میں ناکام ہوئے تو ان کا سیاسی کیریئر داؤ پر لگ سکتا ہے۔

خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں یہ ایک بڑا تنازع ہوسکتا ہے اور مناسب فورم پر اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر عمران اپنے دعویٰ کو ثابت نہ کرسکے تو وہ غیر ذمہ دار ترین سیاست دان ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں دوستوں کے ساتھ کرنا بہت آسان ہے لیکن جب عوامی سطح پر اس طرح کے بیانات سامنے آئیں تو اس کے سیاست پر اثرات پڑتے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ جہموری ڈھانچے میں رشوت کی پیش کش کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ‘رشوت کی پیش کش کرنا اخلاقی خرابیوں سے بڑا جرم ہے’۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: