مسلم لیگ (ن) کی انضباطی کمیٹی نے نہال ہاشمی کو طلب کرلیا

اسلام آباد: چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی جانب سے نہال ہاشمی کا استعفیٰ منظور نہ کیے جانے اور بحیثیت سینیٹر ان کے کام جاری رکھنے کی رولنگ دیئے جانے کے بعد حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی انضباطی کمیٹی نے نہال ہاشمی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان سے عدلیہ کو ‘دھمکیاں دینے’ اور پارٹی قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کی وضاحت طلب کی جاسکے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ سینیٹ سیشن کے ختم ہونے کے فوراً بعد راجا ظفرالحق کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کی انضباطی کمیٹی کے ارکان نے ملاقات کی تاکہ نہال ہاشمی کے استعفیٰ کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ کی تفصیلی رولنگ کے بعد کی صورتحال پر مشاورت کی جاسکے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے منگل (6 جون) کو پارٹی منشور کے مطابق 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جو معطل کارکن نہال ہاشمی کے خلاف مناسب کارروائی کے حوالے سے اپنی تجاویز پر مشتمل رپورٹ 11 جون تک جمع کروائے گی۔

وزیراعظم نواز شریف کے مشیر قانون بیرسٹر ظفر اللہ خان، جو انضباطی کمیٹی کے رکن بھی ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ کمیٹی نے 28 مئی کی نہال ہاشمی کی متنازع تقریر کی پوری ویڈیو دیکھی ہے، جس میں وہ بظاہری عدلیہ اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ارکان کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

بیرسٹر ظفر اللہ خان نے بتایا کہ کمیٹی نے نہال ہاشمی کو شوکاز نوٹس کا جواب دینے کا موقع فراہم کیا ہے، جو پہلے ہی انھیں پارٹی کی جانب سے دیا جاچکا ہے۔

بیرسٹر ظفر اللہ خان کی باتوں سے پارٹی کی حکمت عملی میں کچھ تبدیلی کا اشارہ ملا، جب انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا پہلا کام تو نہال ہاشمی کی تقریر کی تحقیقات کرنا ہے، جس کے بعد وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں سینیٹ نشست سے دیئے گئے استعفیٰ کو واپس لیے جانے پر نہال ہاشمی کی جانب سے پارٹی قواعد کی خلاف ورزی کا جائزہ لیا جائے گا۔

تاہم انھوں نے اس سوال کا جواب دینے سے معذرت کرلی کہ کیا پارٹی قیادت نے استعفیٰ واپس لیے جانے پر نہال ہاشمی کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کا سوچ رکھا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی استعفیٰ کے معاملے کو بھی دیکھے گی لیکن اس وقت اُس کے سامنے مرکزی سوال نہال ہاشمی کی تقریر کے مقاصد ہیں۔

اس سے قبل چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کے دوران 3 صفحات پر مشتمل رولنگ پڑھ کر سنائی، جس میں واضح کیا گیا کہ نہال ہاشمی کی جانب سے 31 مئی کو جمع کرائے گئے استعفیٰ کی تصدیق کے لیے انھیں ذاتی حیثیت میں7 جون کو حاضر ہونے کے لیے جاری کیا گیا نوٹس ‘غیر موثر’ ہوگیا اور نہال ہاشمی کی سینیٹ نشست سے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔

رولنگ کے مطابق نہال ہاشمی نے کہا کہ انھوں نے ‘دباؤ کے ماحول میں اور غیر رضاکارانہ طور پر’ استعفیٰ دیا تھا۔

اپنی رولنگ میں چیئرمین رضاربانی نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ نہال ہاشمی نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں استعفیٰ ‘دیگر لوگوں کے ساتھ’ جمع کروایا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ استعفیٰ رضاکارانہ طور پر نہیں دیا گیا، بلکہ دباؤ میں آکر دیا گیا۔

رضا ربانی نے کہا کہ استعفیٰ منظور نہ کیے جانے کی درخواست موصول ہونے پر میں نے سینیٹر سے زبانی بھی پوچھا کہ کیا وہ اس سے دستبردار ہورہے ہیں، جس پر نہال ہاشمی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ‘ہاں میں استعفیٰ واپس لے رہا ہوں’۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: