صدیق خان مرحوم ایک جہد مسلسل،ٹیکسلا کی سیاست کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

تحریر: توقیر ریاض خان

۔ٹیکسلا کی سیاست کا روشن باب۔صدیق خان مرحوم کی سیاست نظامت کے دور سے واضع ہوئی ۔اپ کے دور نظامت میں ترقیاتی کاموں کا جال پورے حلقے میں پھیلا۔انسانیت کی لازاوال مثال صدیق خان تھے ۔میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ صدیق خان مرحوم ٹیکسلا کی سیاست کا ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے تھے ۔آپ کا جہد سیاست ایک تاریخ، جس کو بیان کرنا وقت کی بساط پر ناممکن ہے۔حلقہ پی پی 7 کا جنرل الیکشن تھا عوام ووٹ ڈالنے کے لیے جوک در جوک پولنگ اسٹیشن کا رخ کر رہے تھے۔اچانک ٹیکسلا اسکول کے پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور خان گروپ کے ووٹرز سپوٹرز کی تلخ کلامی شروع ہوگئی. اہل علاقہ کی بڑی تعداد آمنے سامنے موجوداور میں الیکشن کوریج کے لیے موجود تھا ماحول کچھ یوں تھا کہ ن لیگ کی جانب سے خواتین پولنگ اسٹیشن میں کچھ عناصر کی جانب سے اندر گھس کر ووٹ پول کرنے کی اطلاع تھی ۔خان گروپ کی جانب سے احتجاج شروع ہوگیا ایک بد امنی کی ماحول پیدا ہوگیا ۔دونون اطراف سے اپنے اپنے امیدواروں کو اطلاع دے دی گئی ایک طرف چوہری نثار کی جانب سے حاجی عمر فاروق تمام معاملات پر نظر جمائے تھے دوسری جانب صدیق خان مرحوم خود ۔دونوں اطراف کے لوگ امنے سامنے یو لگ رہا تھا اب کچھ ہوا ۔۔۔سخت صورتحال میں اچانک ایک گاڑی آکر رکھتی ہے اور صدیق خان مرحوم اس میں سے اترتے ہیں ۔ہم کوریج کے لیے موجود تھے صدیق خان مرحوم پہنچتے ہی پولنگ اسٹیشن کے گیٹ پر جاتے ہیں اور چند تاریخی الفاظ کہتے ہیں ” الیکش اج ختم ہو جلسی تے اساں پورا سال اک دوہے دے اگے آنڑاں اے اگر کسی نے دواں پاسوں غلطی کیتی میں سمجھساں او میرا دشمن ہے” میں الیکشن لڑنا واں اس دا اے مقصد ہر گز نہیں تسی اک دوسرے دے دشمن بنڑؤں اسی آپس وچ بھائی بھائی آں” پنجابی میں الفاظ اپنے اور مخالف دھڑوں کو سنا کر میرے پاس آکر کھڑے ہوگیے میں حیران تھا تکتا رہ گیا کہ ہلچل تھی دھمکیاں تھی دونوں جانب سے تھم گئی صدیق خان سے میں نے سوال کیا کہ خان صاحب میں تو ڈر گیا تھا دونوں جانب سے اسلحہ ایک دوسرے کی جانب تان لیا گیا تھا لیکن صدیق خان کا رحب تھا یا ان دایہ کہ دونوں جانب کے لوگ پیچھے ہٹ گیے جس کو ایک گھنٹہ پہلے تک پولیس تک بھی نہیں سنبھال سک رہی تھی صدیق خان کے دو جملوں نے پورے مجمعے کو پر امن کر دیا ۔صدیق خان میرے پاس آئے اور انہوں مجھ سے کہا توقیر بھائی اب کچھ نہیں ہوگا ۔میں نے صدیق خان کے رویے کو دیکھا تو حیران رہ گیا اپ کی بات کا جتنا اثر ان کے سپوٹر ز پر ہوتا تھا اتنا مخالفین پر بھی ہوتا تھا ۔اس کو خوف سمجھیں یا لحاظ صدیق خان کا دونوں اطراف باثر تھے ۔میں نے صدیق خان کو پنجاب اسمبلی میں پہلی بار بولتے دیکھا اور ششدر تھا کہ اتنا زیرق سیاسی بصیرت رکھنے والا شخص کس طر ح عام لوگوں سے مخفی تھا۔وہ منجھا ہوا سیاستدان ہونے ساتھ ساتھ ایک تعبیدار بھائی بھی تھے۔اپنے گاوں میں اپنے ڈھیرے پر بڑے بھائی غلام سرور خان کی جوتیاں اٹھاکر پھرتے میں نے اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھا ۔اگر بڑے خان کسی پر غصہ کرتے تو صدیق خان کو بعد ان کو مناتے دیکھا کہ بڑے خان غصے میں ہیں آپ ناراض نہ ہوں۔صدیق خان ایک صبر کا منجمند پہاڑ تھے ۔مجھے ایک دن کال آتی ہے کہ جناب بہت دن ہوگیے ملاقات نہیں ہوئی چکر لگائیں۔میں ان سے ملنے ان کے پمپ پر چلا گیا۔عمومی طور جرگہ، وفد معمول رہتا تھا ۔الیکشن کے دنوں میں میرے اور ان کے تعلق میں اضافہ ہوگیا ۔اسلام آباد میرے دفتر متعدد بار تشریف لائے۔میں چلا گیا سوچا چلیں ان کا انٹرویو کر لونگا موجودہ حالات پر گیا تو دیکھا موجود نہیں۔اسٹاف نے بتایا نیچے آرام کر رہے ہیں ۔لیکن میرا نتظار کر رہے ہیں میں ان کی اجازت سے تہہ خانے میں چلا گیا تو دیکھا کہ وہ سر کی مالش کروا رہے ہیں۔میں ازرا مزاق کہا کہ خان صاحب شاہد میں غلط ٹائم پر آگیا انہوں نے کہا نہیں بیٹھو بس ابھی فرست ملی تھوڑا سوچا آرام کر لوں۔صوبائی اسمبلی کا ایک بل تھا جس پر وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے تھے کہ میڈیا پر اس کو کس طرح اٹھایا جائے لیکن اور مہمان اور آگیے اٹھ کر اوپر آفس میں جانا پڑا ۔وہاں کچھ لوگ تھے جن کا کوئی کاروباری مسئلہ تھا اس کو حل کرنے کے لیے ان کو اپنے کاروبار میں ان کو حصے دار بنا لیا کہ آپ جب تک اپنے قرضے سے نجات نہیں حاصل کر لیتے تب تک ان کرشر پلانٹ کی آمدن اپ لیتے رہے اور مجھے ماہانہ ایک روپے بطور پاٹنرز شپ دیتے رہے ۔میں دیکھ کر سکوت میں چلا گیا کہ اتنی بڑی رعایت جب وہ چلے گیے تو خان صاحب نے کہا کہ توقیر یہ میرے بھرپور مخالف تھے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر میری مخالفت کی لیکن اس وقت مشکل حالات میں ییں اور مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں ان سے بدلہ لوں۔بہت سے ایسے واقعات جن کو بیان کرنا ممکنات میں سے نہیں۔لیکن صدیق خان ایک باب جس کا مقابلہ کرنا مشکل ترین مرحلہ سمجھا جاتا تھا ۔مخلافین کے اندر آج بھی وہ سیاسی خوف موجود یے جو صدیق خان کے نام سے تھا۔صدیق خان کا تصور بھی سیاسی مخالفین بھر بھاری ہوتا تھا۔عدالت تھی ری کاونٹنگ شروع تھی صدیق خان مسلسل عدالت اور عدالت کے باہر تھے پہلی بار انہوں میڈیا کے سامنے گنتی کا عمل شروع کروایا مخالف پارٹی کی جانب حاجی عمر فاروق صاحب کے بھتیجے بھی پیش ہو رہے تھےصدیق خان نے ایڈوکیٹ صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کہا اچھے باپ کے بیٹے ہو لیکن غلط طرف ہو ۔میرے بھتیجے ہو۔عدالت کے اندر ان کو کہا اپنی تکریم کو کیوں ٹھوکروں میں رکھا ہوا ہے ۔بڑے جملے تھے ۔صدیق خان نے اپنی زندگی کو بہت تبدیل کرکے رکھ دیا تھا مجھے جو ان کا تعارف دیا کہ وہ بدماش، سخت، انتقام پرست انسان ہیں۔لیکن میں نے انکو یکسر مختلف پایا ۔وہ بدمعاش تھے اپنے دھڑے کے لیے۔وہ سخت تھے اپنے اصولوں پر، وہ انتقامی تھے اپنے عوام کے لیے۔میں نے مخالفین سے بھی سنا جب ان کا انتقال ہوا کہ مقابلہ اب ختم ہوگیا۔بساط پرکھیل اب ختم ہو گیا ۔ٹیکسلا ایک عظیم رہنما سے مرحوم ہو گیا۔غلام سرور خان کی سیاست کا ایک برج گر گیا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ غلام سرور کے دونوں باوزوں ان سے جدا ہوگیے ۔خان صاحب صدیق خان کے بل بوتے اور سہارے سیاست کا کھیل کھیل رہے تھے جس کا مقابلہ ناممکنات میں سے تھا جس کی کمی وہ بہت محسوس کرتے ہیں بلکہ میں نے بہت حد تک ان کے چہرے سے یہ اندازہ لگایا کہ وہ صدیق خان مرحوم کو ہر جلسے، میٹنگ، فیصلوں اور موجودہ صورتحال میں اختلافات کے دوران ان کی کمی کو یاد کرتے ہیں کیونکہ پارٹی مسائل کے حل کا نام صدیق خان تھے ۔بلکہ لوگ کہتے ہیں اگر صدیق خان ہوتے تو یہ نہ ہوتا ۔اللہ ان کے درجات کو بلند کرے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: