سعدیہ حملہ کیس کی نئی پیش رفت ۔ ملزمان واقع کو غلط ثابت کرنے میں ناکام۔ساتھ آیا ہوابزرگ دوکاندار سعدیہ کے حق میں بول پڑا۔

واہ کینٹ (بیورورپورٹ ) سعدیہ حملہ کیس نیا رخ اختیار کر گیا۔ سب انسپکٹر عمران عباس کی جانب سے کی جانے والی انکوائری میں نامزد حملہ آوروں کی جانب سے پورے واقعے کو غلط ثابت کرنا ناممکن ہوگیا۔ سعدیہ اور اس کا شوہر جب چوکی نمبر 3 پہنچے تو ایک جمع غفیر جمع تھا لیکن سب انسپکٹر کی جانب سے دونوں پارٹیوں کو اپنا اپنا مدعا پیش کرنے کا کہا گیا تو حملہ آور گروں نامزد ملزمان اپنی صفائی میں کچھ بھی نہ پیش کر سکے ۔سعدیہ شہزاد اپنے ساتھ قران لے گئی اور سب کے سامنے رکھتے ہوئے سب کو کہا کہ مجھے بتایا جائے کہ یہ واقع جھوٹا ہے میں حلف لیتی ہوں کہ جو میں نے درخواست دی وہ من ان سچی ہے دوسری جانے سے آئے نامزد ملزمان نے حلف لینے سے انکار کر دیا بلکہ ان کے ساتھ آئے ایک بزرگ جو اس محلے کے دوکاندار ہیں نے سعدیہ کی تاعید کی کہ میں نے دیکھا تھا کہ یہ لوگو ہتھوڑے ڈھنڈے لے کر اس خاتوں کے گھر داخل ہوئے ۔اس نے کہا میں نے اللہ کو جواب دینا ہے ۔ نامز د ملزمان نے کہا کہ ہم تمھیں اپنی بیٹی کی طرح سمجھانے آئے تھے جس پر سعدیہ نے کہا کہ اگر سمجھانا اس کا نام ہے کہ میرے بچوں اور بیٹوں پر ہاتھ اٹھایا جائے 30 سے زاہد افراد لے کر مجھ اکیلی کے گھر پر دھوا بولا جائے تو یہ سمجھا نا میری سمجھ سے باہر ہے ۔سعدیہ نے کہا کہ میں ایک غریب خاتون ہوں چھینا جھپتی میں میرے کپڑے بھی پھٹے لیکن میں نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔مجھے انصاف کیوں نہیں دیا جارہا ہے ایف آئی آر اپنے متن سے ہٹ کر کیوں کاٹی گئی ملزمان کو کیوں بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس حوالے سے چوکی انچارج عمران عباس نےکہا اب انکوائری ڈی ایس پی خود کریں گے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس دن اکیلی عورت کو دیکھ کر ایک جم غفیر نے اس کے گھر دھوا بولا اور آج انکوائری کے دن بھی پورا علاقہ ساتھ لانے کی کیا وجہ ہے کیا یہ سب لوگ انکوائری کا حصہ تھے نہیں تو ان کا کیا کام ۔دوسری جانب سعدیہ اور اس کے شوہر پر کیا رعب ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔کیا سعدیہ اور پولیس پر دباو ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ اس حوالے سے چوکی انچار ج عمران عباس کا کہنا تھا کہ ملز مان پارٹی نے ڈی ایس پی کو انکوائیر کی درخواست دی ہے اس کے بعد انصا ف پر مبنی فیصلہ کیا جائے گا۔ سعدیہ کا کہنا ہے کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں  اعلی افسران تک ۔نہیں تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی تک جاو نگی۔ کئی دن گز ر جانے کےبعد بھی ملزمان کو سیاسی دباو کی بنیاد پر تحفظ دیا جارہاہے۔ اعلی افسران نوٹس لین۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: