شریف خاندان میں دراڑ، شہباز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے نواز شریف کا کچا چٹھا کھول دیا

اسلام آباد: وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ جانے اور گہری رفاقت پر وزیراعظم ہاﺅس میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔مصنفہ کی پالیسی شریف برادران کے درمیان دراڑ کی وجہ بن گئی ،آئندہ الیکشن میں شریف برادران کیپٹن صفدر اور حمزہ شہباز کی الگ الگ انتخابی مہم چلانے کا سوچنے لگے ہیں۔

روزنامہ جناح نے معتبر ذرائع سے خبر شائع کی ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کا نام پانامہ کیس میں آیا تو وزیراعلیٰ شہباز شریف کی شریک حیات مصنفہ تہمینہ درانی نے حمزہ شہباز کو دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وراثتی جائیداد کا نام دے کر آپ کے چچا وزیراعظم نے دولت کے انبار جمع کئے ہیں اور مصیبت پورے خاندان پر آگئی ہے، تہمینہ درانی نے کہاکہ شریف خاندان کی بہو ہونے سے پہلے ایک ادیب اور مصنفہ ہوں،تاریخ پر سمجھوتہ کیا اور نہ ہی آئندہ کروں گی۔ تہمینہ درانی کی بات پر حمزہ شہباز نے وعدہ کیاکہ وہ ناجائز طور پر میاں نواز شریف کا دفاع نہیں کریں گے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف کی زوجہ تہمینہ درانی اور بیگم کلثوم نواز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تاہم شہباز شریف کی بروقت مداخلت پر بات زیادہ آگے نہیں بڑھی، ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر میاں شہباز شریف کی پیشی اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی گہری قربت اور ساتھ رہنے پر بھی وزیراعظم ہاﺅس میں گہری تشویش پائی گئی، وزیراعلیٰ شہباز شریف کا پنجاب ہاﺅس جانا اور پھر اپنے بیٹے اور چوہدری نثار علی خان کے ہمراہ اککیلے جے آئی ٹی کی جانب روانہ ہونا بھی سوالیہ نشان ہے، شہباز شریف کی پیشی کے بعد پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناءاللہ سمیت دیگر کی جے آئی ٹی پر تنقید قدرے کم ہوگئی ہے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ میاں شہباز شریف نے جے آئی ٹی میں پیش ہو کر سب کچھ سچ بتا دیا اور وراثت کی تقسیم اور میاں شریف کی جانب سے حسین نواز کو تحفے پر اربوں کی جائیداد دینے پر وزیراعلیٰ نے جے آئی ٹی کے سامنے حقائق سے پردہ چاک کردیاہے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ الیکشن میں میاں نواز شریف کے کیمپ سے ان کے داماد کیپٹن صفدر کا نام سامنے آنا بھی طوفان سے کم نہیں،اس سے معلوم ہوتاہے کہ شریف برادران کے درمیان دراڑ موجود ہے۔

رائیونڈ ذرائع کا کہناہے کہ میاں نوازشریف کے کیمپ میں تہمینہ درانی کا زیادہ خوف پایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہ صرف ادیب ہیں بلکہ عالمی شہرت یافتہ ایک مصنفہ بھی ہیں،حقائق تلخ ہوتے ہیں مگر تاریخ کا حصہ ضرور بنیں گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: