میرا حُسین سدا کربلا میں رہتا ہے

تحریر :صاحبزادہ عبدالقدیر اعوان
محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور ذوالحج آخری۔محرم الحرام سے ذوالحج تک سارے سال کا جائزہ لیا جائے تو تاریخِ اسلام بے شمار قربانیوں کی آئینہ دار ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نشانِ منزل کی حیثیت رکھتی ہیںکہ کیسے اتباعِ رسالت کے لیے جانوں کے نزرانے پیش کر کے قربِ الٰہی کی منازل حاصل ہو سکتی ہیں!
تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کس محنت ،محبت اور کس درد سے اسلام کی عمارت تعمیر فرمائی۔مکی زندگی کے مصائب کو دیکھتے ہوئے مدنی زندگی کی مشکلات کا مطالعہ کریں تو خلافتِ اسلامیہ کی ترتیب کا محور مدنی زندگی دکھائی دیتی ہے ۔آپ ﷺ کے وہ خدام کہ جن کی خدمتگار ی پر خود قرآن کریم گواہ ہے ،کس عجز وانکساری اور خندہ پیشانی سے آپ ﷺ کے احکامات مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے غزوات وسرایہ سے گزرتے ہو ئے اسلامی عمارت کی تعمیر میں سرگرم عمل رہے۔
مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سی ریاست سے مملکتِ اسلامیہ معلوم دنیا کے تین حصوں تک پہنچی لیکن جونہی اس خلافتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی تو ساتھ ہی مشرکین و منافقین و یہود کی سازشیں ظاہر و پوشیدہ طور پر شروع ہو گئیںاس کے ثبوت میں دو عناصر مثال کے طور پر بیان کیے جا سکتے ہیں۔
ایک یہود کی اسلام مخالف سازشوں کا اس حد تک بڑھنا کہ انھیں ان کے قلعوں سے نکال باہر کرنا ۔دوسرا خطہ عرب اور ملک ِ فارس کی تہذیبوں کا آپس میں تاریخی تقا بل کا ہونا ۔جب فتوحات ِاسلامیہ کے سامنے تہذیب ِفارس اس قابل نہ رہی کہ میدانِ کارزار میں مجاہدینِ اسلام کا سامنا کر سکے تو اس کا بھی یہ انداز اختیار کرنا کہ مختلف سازشی عوامل کے ذریعے جہاں تک ہو سکے نبی کریم ﷺ آپ کے خدام ؓ اور خانوادہ رسول ؑ سے اپنے تہذیب و تمدن کے اجڑنے اور عینِ حق یعنی اسلام کے پھیلنے کا بدلہ لیا جائے۔
کوفہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر یہ دونوں سازشی عوامل ظاہر ی طور پر اکھٹے ہو گئے ۔اب جبکہ میدانِ کارزار میں مد مقابل نہیں ہو سکتے تھے تو ان کے لیے بہتر طریقہ یہی ہو سکتا تھا کہ وہ دینِ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے خلاف برسرِ پیکار رہیں۔ یکم محرم الحرام جہاں اسلامی سال کا پہلا دن ہے وہیں خلیفہ دوم
حضرت عمرِفاروقؓ کا یوم شہادت بھی ہے اور اس عظیم شہادت کے محرکات کے سلسلے میں تاریخ کے اوراق اسی کوفہ کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔پھر علی ا لترتیب حضرت عثمانِ غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادت کی کڑیاں بھی انھیں عوامل کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔اب دیکھیں کہ انسان جب انسانیت کی بلندی سے گرتا ہے تو ظلمتوں کی حدود کو کہاں تک پارکرتا چلا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا میں وہ خون بہایا گیا جو نبی اکرم ﷺ کے مبارک خون کا حصہ تھا۔یوں تو خون حرام ہے لیکن یہ وہ خون تھا کہ جس کے پینے والے صحابی رسول کو نبی اکرم نے وہاں تک ارشاد فرما دیا کہ اب تم پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔یہ خون اُس ذات سے وابستہ تھا جسے اللہی رب العزت نے مجسم رحمتِ پیدا فرمایا ،خالق اور مخلوق میں رحمتِ باری تعالیٰ کے پہنچنے کا واحد ذریعہ بنائی اور جس ذات پر اپنی جان،والدین ،اولاد تک کو قربان کردینے کا جذبہ نہ ہو تو انسان مقصدِ تخلیق کو نہیں پا سکتا اور وہ عیمان جو کہ شرط ہے قربِ الٰہی کا حاصل نہیں کر سکتا ۔وہ ذات ! کہ جس ذات کی شفاعت کے بغیر روذِ محشر کوئی رحمتِ باری کو نہیں پا سکتا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ اس ذات کی خاطر جان،مال،آبرو ،والدین ،اولاد جو کچھ ہوقربان کر دیا جاتامگر جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جب انسان،انسانیت کی سطح سے گرتا ہے تو پھر وہ ظلمتوں کی حدوں کو پار کر جاتا ہے اور یہ واقعہ کربلا کہ جس کی تاریخ دس محرم الحرام حرفِ عام میں ہے ،خواہ اس کی تاریخ سے کلی طور پر اتفاق نہ بھی ہو اس واقعہ کی صداقت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا ۔
یزیدیت کا تھی ؟ کہ وہ شخص جس نے خلافتِ اسلامیہ میں پہلی بار اقتدار ،فوج ،طاقت ،حکومت اپنی سمجھ لی تھی ۔اس کے اس انداز پر خانوادہ رسول نے اتفاق کرنے کی بجائے اُس خون کو کہ جس کی حرمت میں پہلے بیان کر آیا ہوں ،کربلا کی خاک میں ملانا بہتر سمجھا اور اگر مثال کے طور پر یہ گمان کیا جائے کہ روزِ محشرحضرت امام حُسینؓ
سے نبی اکرم یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے میرا خون اس طرح سے خاکِ کربلا میں کیوں ملا دیا ؟ تومحالہ یہ جواب زہن میں آتا ہے کہ اے نانا ایک طرف آپ کا بتاہا ہوا حق کا راستہ تھا اور دوسری طرف یہ خون۔میں نے آپ کے حکم کے مطابق اس خون کو خاک میں ملادینا بہتر سمجھا۔حضرت آدم سے لے کر روزِ قیامت تک دوہی اندازِ فکر ہمیشہ انسانیت کے سامنے رہیں گے ۔ایک یزیدیت کا اور دوسرا حسینیت کا۔آج ہمیں بھی انہی دو نظریات میں سے کسی ایک نظریہ پر قائم ہونا ہے ۔ایک طرف
نبی اکرم ﷺ کی راہنمائی ہے اور دوسری طرف اس کے مقابل حذب الشیاطین کا راستہ ہے ۔تو کیا یہ کافی ہو گا کہ محرم الحرام کے چند ایام میں رواجی طور پر ان واقعات کو یا د کرلیں۔،کچھ دیگیں پکائیں ،محافل متعقد کریں ؟ یا اپنی ذات کو شوچ سے عمل تک اتباعِ محمد رسول اللہ ﷺ کے تابع کریں چاہے اس کے لیے ہمیں واقعہ کربلا جیسی عظیم
قربانی کی سنت کو تازہ کرنا پڑے ؟
اس واقعہ کا اگر بغور مطالعہ کریں اور آج کے حالات کو دیکھیں تو یہ بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جو اسلام مخالف قوتیں تب تھیں وہی آج بھی شدومد سے نبی کریمﷺ
کی ذات کے خلاف برسرِ پیکارہیں۔مگر ضرورت اس دعا کی ہے کہ
ہے لشکرِکوفی تو آمادہ پیکار دے ہم کو خدایا تو حسین ابن علی دے

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: