سینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا

  اسلام آبا د( توقیر ریاض خان سے )ءسینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںحویلیاں میں اے ٹی آر جہاز کا کریش ہونا ، محکمہ موسمیات کی کارکردگی ، باچا خان ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال،علامہ اقبال ائیرپورٹ لاہورکی توسیع ، پاکستان کے ایئرپورٹس پر چین کی کمپنیوں کو ٹھیکے ایوارڈ کرنا، تاجکستان ایئرلائنزکی پاکستان میں پروازیں ، سول ایوی ایشن کی اوپن سکائی پالیسی کے علاوہ پرائیوٹ ایئرلائنز سے وصول کیے گئے ٹیکسز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے ورکنگ پیپر تاخیر سے فراہم کرنے پر رپورٹ طلب کرلی۔ رکن کمیٹی میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ تین سال سے ورکنگ پیپر کی بروقت فراہمی پر زور دے رہے ہیں۔ مگر آج تک کمیٹی کی ہدایت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ پی آئی اے کی گذشتہ چار سالہ کارکردگی مایوس کن ہے۔ پی آئی اے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا باعث بنی۔کرپشن ، اسمگلنگ کے آئے دن معاملات سامنے آرہے ہیں اور ویت نام سے جو جہا ز لیے گئے ان کی حالت بد ترین ہے۔ کبھی جہاز سے ہیروئن نکلتی ہے,کبھی کاک پٹ میں پائیلٹ تصویریں بناتے ہیں تو کبھی عملہ سمگلنگ کرتے پکڑا جاتا ہے۔پہلے ہی پی آئی اے کا برا حال ہے اوپر سے یہ واقعات ہورہے ہیں۔جس پر سیکرٹری سول ایوی ایشن عرفان الہیٰ نے کمیٹی کو بتایا کہ ترکش اچھے جہاز تھے مگرلوگ زیادہ سامان اندر لیکر آتے ہیں۔پپرا رولز کے مطابق سستے سے سستا جہاز لیا جاتا ہے۔اچھا جہاز مہنگا ملتا ہے جس پر آڈٹ اعتراض آجاتا ہے۔سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ حویلیاں میں جہاز گرا تیرہ ماہ گزر گئے ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکتا۔متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقم بھی پوری نہیں دی۔ جس پر سیکرٹری سول ایوی ایشن نے کہا کہ تمام متاثرین کو پچاس پچاس لاکھ روپے ادا کردئے ہیں,اگر کسی کو نہیں ملے تو آگاہ کریں ۔سینیٹرثمینہ سعید نے کہا کہ فسٹ آفیسر جنجوعہ کی فیملی کو ادائیگی نہیں ہوئی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی فیملی کو پچاس لاکھ کے علاوہ پانچ لاکھ الگ دئے گئے اور انکے چھوٹے بھائی کو پائیلٹ بھرتی کیا گیا۔ سیکرٹری سول ایوی ایشن نے حویلیاں حادثے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے شکار جہاز کی اس دن چوتھی فلائیٹ تھی۔ ایک انجن فیل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے حادثہ ہوا۔حادثہ 4 بج کر 20 منٹ پر ہوا۔پروپیلیر خراب ہونے سے بائیں انجن فیل ہوا۔پروپیلیر کی خرابی پر ایئر فورس کی ٹیم نے بھی تحقیقات کی۔ حویلیاں حادثہ سے متعلق پانچ مختلف رپورٹس آنی ہیں۔امید ہے 30 اپریل تک رپورٹس آجائیں گئی۔ اس کے بعد تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کردیا جائے گا۔ حادثے کی بنیادی وجہ انجن بند ہونا تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تین دن کے اندر متاثرین کو دی جانے والی رقم اور جہاز کلیئرنس رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے۔قائمہ کمیٹی کو باچا خان ایئرپورٹ پشاور کے متعلق سول ایوی ایشن حکام نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 60 فیصد کام مکمل ہو گیا۔کار پارکنگ کا مسئلہ بھی حل کر دیا گیا۔ایک وقت میں 6 سے سات فلائٹس آ سکتی ہیں۔ صرف فنیشنگ کا کام رہ گیا ہے جو اپریل تک کام مکمل ہو جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باچا خان ایئرپورٹ کے حوالے سے سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی بنی تھی اس کے ممبران کو بھی بلا لیتے ہیں۔وہ بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیں۔قائمہ کمیٹی کو محکمہ موسمیات کی کارکردگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔کمیٹی کو ڈی جی میٹ غلام رسول نے بتایا کہ دنیا بھر میں میٹ ڈیپارٹمنٹ سول ایوی ایشن کے ماتحت ہوتا ہے۔ تمام فضائی سفر میٹ کی پیشن گوئی پر ہی چلتا ہے۔ تمام ایر پورٹس پر میٹ کے ریڈارز لگے ہوئے ہیں۔ایویشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات کو ہونا چاہیے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ جب 2010میںسیلاب آیا تو ہمیں کوئی پیشگی معلومات نہیں تھی۔تجویز دی تھی کہ اس محکمہ کو موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت کیا جائے۔ جس پر غلام رسول نے کہا کہ2010 کے سیلاب کے 3 دن پہلے ہی پیشن گوئی کر دی گی تھی۔ سیلاب ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے آیا۔ سیکریٹری عرفان الہیٰ نے کہا کہ 130 میلین ڈالر کا منصوبہ ہے جو ورلڈ بینک نے دینے ہیں۔ منصوبے کیلیے پی سی ون تیار ہے۔ ڈی جی میٹ نے کہا کہ پاکستان میں محکمہ موسمیات کے 7 ریڈار ہیں، جاپان نے 1930 میں یہ 7 ریڈار لگائے تھے جو اب پرانے ہو گے ہیں۔اسلام آبادمیں نیا ریڈارلگا رہے ہیں جو اس مون سون میںکام شروع کرے گا۔ کراچی میں لگے ریڈار کو تبدیل کرنے میں مزید 2 سال لگیں گے۔فی الحال لاہور اور منگلا کے ریڈار سے مدد لی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے ملازمین کو ہارڈ ایریاز خصوصاً بلوچستان میں کام کے لیے خصوصی الاو¿نس دیئے جائیں جس کی کمیٹی نے الاو¿نس دینے کی سفارش کردی۔سینیٹر طلحہ محمو دنے کہا کہ محکمہ موسمیات کو کسی صورت بھی سول ایوی ایشن کے علاوہ دوسرے محکمے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ کی توسیع کے حوالے سے شکایات سامنے آرہی ہیں۔ ایک کمپنی کو نوازنے کے لیے ٹینڈر میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیپرا رولز کے مطابق کام کیا جارہا ہے ۔ تین بڈز سامنے آئی ہیں جوائنٹ وینچر کے تحت کام کیا جائے گا۔چین کی کمپنی کے ساتھ پاکستانی کمپنی بھی شامل ہوگی۔ 36ارب کا منصوبہ ہے ۔ رکن کمیٹی میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے معاملات میں کرپشن کی گئی تھی اس کی رپورٹ طلب کی تھی جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی پانچ دن کے اندر رپورٹ فراہم کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود نے سول ایوی ایشن کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تاجکستان ایئرلائنز کے حکام سے ملکر معاملات کا جائزہ لیں اور ایک رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں۔ شاہین ایئرلائنز حکام نے کمیٹی کو اوپن سکائی پالیسی کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ پالیسی ملک کے لیے فائدہ مند کم اور دیگر ممالک کے لیے زیادہ ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کی عوام کو کم قیمت پر سفر کی سہولت فراہم کی جائے ا ور2015کی پی آئی اے کی پالیسی طلب کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ہدایت کی کہ پہلے کی پالیسی کیساتھ موازنہ کرکے رپورٹ پیش کرے۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز حاجی سیف اللہ بنگش ، کلثوم پروین ، میر محمد یوسف بادینی ،ثمینہ سعید کے علاوہ سیکرٹری سول ایوی ایشن عرفان الہیٰ ،ڈی جی ایف بی آر ، ڈی جی میٹ ، ڈائریکٹر پلاننگ سول ایوی ایشن ،انچارج باچا خان ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔    اسلام آبا د( توقیر ریاض خان سے )ءسینیٹ قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میںحویلیاں میں اے ٹی آر جہاز کا کریش ہونا ، محکمہ موسمیات کی کارکردگی ، باچا خان ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال،علامہ اقبال ائیرپورٹ لاہورکی توسیع ، پاکستان کے ایئرپورٹس پر چین کی کمپنیوں کو ٹھیکے ایوارڈ کرنا، تاجکستان ایئرلائنزکی پاکستان میں پروازیں ، سول ایوی ایشن کی اوپن سکائی پالیسی کے علاوہ پرائیوٹ ایئرلائنز سے وصول کیے گئے ٹیکسز کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے ورکنگ پیپر تاخیر سے فراہم کرنے پر رپورٹ طلب کرلی۔ رکن کمیٹی میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ تین سال سے ورکنگ پیپر کی بروقت فراہمی پر زور دے رہے ہیں۔ مگر آج تک کمیٹی کی ہدایت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ پی آئی اے کی گذشتہ چار سالہ کارکردگی مایوس کن ہے۔ پی آئی اے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا باعث بنی۔کرپشن ، اسمگلنگ کے آئے دن معاملات سامنے آرہے ہیں اور ویت نام سے جو جہا ز لیے گئے ان کی حالت بد ترین ہے۔ کبھی جہاز سے ہیروئن نکلتی ہے,کبھی کاک پٹ میں پائیلٹ تصویریں بناتے ہیں تو کبھی عملہ سمگلنگ کرتے پکڑا جاتا ہے۔پہلے ہی پی آئی اے کا برا حال ہے اوپر سے یہ واقعات ہورہے ہیں۔جس پر سیکرٹری سول ایوی ایشن عرفان الہیٰ نے کمیٹی کو بتایا کہ ترکش اچھے جہاز تھے مگرلوگ زیادہ سامان اندر لیکر آتے ہیں۔پپرا رولز کے مطابق سستے سے سستا جہاز لیا جاتا ہے۔اچھا جہاز مہنگا ملتا ہے جس پر آڈٹ اعتراض آجاتا ہے۔سینیٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ حویلیاں میں جہاز گرا تیرہ ماہ گزر گئے ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکتا۔متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقم بھی پوری نہیں دی۔ جس پر سیکرٹری سول ایوی ایشن نے کہا کہ تمام متاثرین کو پچاس پچاس لاکھ روپے ادا کردئے ہیں,اگر کسی کو نہیں ملے تو آگاہ کریں ۔سینیٹرثمینہ سعید نے کہا کہ فسٹ آفیسر جنجوعہ کی فیملی کو ادائیگی نہیں ہوئی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی فیملی کو پچاس لاکھ کے علاوہ پانچ لاکھ الگ دئے گئے اور انکے چھوٹے بھائی کو پائیلٹ بھرتی کیا گیا۔ سیکرٹری سول ایوی ایشن نے حویلیاں حادثے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے شکار جہاز کی اس دن چوتھی فلائیٹ تھی۔ ایک انجن فیل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے حادثہ ہوا۔حادثہ 4 بج کر 20 منٹ پر ہوا۔پروپیلیر خراب ہونے سے بائیں انجن فیل ہوا۔پروپیلیر کی خرابی پر ایئر فورس کی ٹیم نے بھی تحقیقات کی۔ حویلیاں حادثہ سے متعلق پانچ مختلف رپورٹس آنی ہیں۔امید ہے 30 اپریل تک رپورٹس آجائیں گئی۔ اس کے بعد تمام تفصیلات سے عوام کو آگاہ کردیا جائے گا۔ حادثے کی بنیادی وجہ انجن بند ہونا تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تین دن کے اندر متاثرین کو دی جانے والی رقم اور جہاز کلیئرنس رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے۔قائمہ کمیٹی کو باچا خان ایئرپورٹ پشاور کے متعلق سول ایوی ایشن حکام نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 60 فیصد کام مکمل ہو گیا۔کار پارکنگ کا مسئلہ بھی حل کر دیا گیا۔ایک وقت میں 6 سے سات فلائٹس آ سکتی ہیں۔ صرف فنیشنگ کا کام رہ گیا ہے جو اپریل تک کام مکمل ہو جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ باچا خان ایئرپورٹ کے حوالے سے سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی بنی تھی اس کے ممبران کو بھی بلا لیتے ہیں۔وہ بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیں۔قائمہ کمیٹی کو محکمہ موسمیات کی کارکردگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔کمیٹی کو ڈی جی میٹ غلام رسول نے بتایا کہ دنیا بھر میں میٹ ڈیپارٹمنٹ سول ایوی ایشن کے ماتحت ہوتا ہے۔ تمام فضائی سفر میٹ کی پیشن گوئی پر ہی چلتا ہے۔ تمام ایر پورٹس پر میٹ کے ریڈارز لگے ہوئے ہیں۔ایویشن ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہی محکمہ موسمیات کو ہونا چاہیے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ جب 2010میںسیلاب آیا تو ہمیں کوئی پیشگی معلومات نہیں تھی۔تجویز دی تھی کہ اس محکمہ کو موسمیاتی تبدیلی کے ماتحت کیا جائے۔ جس پر غلام رسول نے کہا کہ2010 کے سیلاب کے 3 دن پہلے ہی پیشن گوئی کر دی گی تھی۔ سیلاب ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے آیا۔ سیکریٹری عرفان الہیٰ نے کہا کہ 130 میلین ڈالر کا منصوبہ ہے جو ورلڈ بینک نے دینے ہیں۔ منصوبے کیلیے پی سی ون تیار ہے۔ ڈی جی میٹ نے کہا کہ پاکستان میں محکمہ موسمیات کے 7 ریڈار ہیں، جاپان نے 1930 میں یہ 7 ریڈار لگائے تھے جو اب پرانے ہو گے ہیں۔اسلام آبادمیں نیا ریڈارلگا رہے ہیں جو اس مون سون میںکام شروع کرے گا۔ کراچی میں لگے ریڈار کو تبدیل کرنے میں مزید 2 سال لگیں گے۔فی الحال لاہور اور منگلا کے ریڈار سے مدد لی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے ملازمین کو ہارڈ ایریاز خصوصاً بلوچستان میں کام کے لیے خصوصی الاو¿نس دیئے جائیں جس کی کمیٹی نے الاو¿نس دینے کی سفارش کردی۔سینیٹر طلحہ محمو دنے کہا کہ محکمہ موسمیات کو کسی صورت بھی سول ایوی ایشن کے علاوہ دوسرے محکمے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ کی توسیع کے حوالے سے شکایات سامنے آرہی ہیں۔ ایک کمپنی کو نوازنے کے لیے ٹینڈر میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیپرا رولز کے مطابق کام کیا جارہا ہے ۔ تین بڈز سامنے آئی ہیں جوائنٹ وینچر کے تحت کام کیا جائے گا۔چین کی کمپنی کے ساتھ پاکستانی کمپنی بھی شامل ہوگی۔ 36ارب کا منصوبہ ہے ۔ رکن کمیٹی میر محمد یوسف بادینی نے کہا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے معاملات میں کرپشن کی گئی تھی اس کی رپورٹ طلب کی تھی جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی پانچ دن کے اندر رپورٹ فراہم کی جائے۔ چیئرمین کمیٹی طلحہ محمود نے سول ایوی ایشن کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تاجکستان ایئرلائنز کے حکام سے ملکر معاملات کا جائزہ لیں اور ایک رپورٹ کمیٹی کو پیش کریں۔ شاہین ایئرلائنز حکام نے کمیٹی کو اوپن سکائی پالیسی کے بارے میں تفصیلی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ پالیسی ملک کے لیے فائدہ مند کم اور دیگر ممالک کے لیے زیادہ ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کی عوام کو کم قیمت پر سفر کی سہولت فراہم کی جائے ا ور2015کی پی آئی اے کی پالیسی طلب کرتے ہوئے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو ہدایت کی کہ پہلے کی پالیسی کیساتھ موازنہ کرکے رپورٹ پیش کرے۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز حاجی سیف اللہ بنگش ، کلثوم پروین ، میر محمد یوسف بادینی ،ثمینہ سعید کے علاوہ سیکرٹری سول ایوی ایشن عرفان الہیٰ ،ڈی جی ایف بی آر ، ڈی جی میٹ ، ڈائریکٹر پلاننگ سول ایوی ایشن ،انچارج باچا خان ایئرپورٹ کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

WordPress.com.

Up ↑

%d bloggers like this: